nido786
05-14-2009, 01:38 AM
مری سوچ کے ٹھہرے پانی میں
تیرے نین کنول جب ہنستے ہیں
مرے دھیان کے اجلے آنگن میں
جب صبح ستارے چنتی ہے
جب شام کوئی سر دھنتی ہے
جب اندیشوں کی بانہوں میں
تیرے سانس کا ریشم کھلتا ہے
جب ہرے کچور خیالوں میں
تیرے جزبوں کا رس گھلتا ہے
میں سوچتا ہوں ان رستوں میں
ہم کتنی دیر کے بعد ملے
جب کتنے موسم بیت گئے
اس کرب کٹھور مسافت میں
دل صدیوں چکنا چور ہوا
اس ہجر کے تپتے صحرا میں
کیا غزلیں تھیں جو راکھ ہوئیں
کیا نیندیں تھیں جو خاک ہوئیں
ہم اتنی دیر کے بعد ملے
کیوں اتنی دیر کے بعد ملے
تیرے نین کنول جب ہنستے ہیں
مرے دھیان کے اجلے آنگن میں
جب صبح ستارے چنتی ہے
جب شام کوئی سر دھنتی ہے
جب اندیشوں کی بانہوں میں
تیرے سانس کا ریشم کھلتا ہے
جب ہرے کچور خیالوں میں
تیرے جزبوں کا رس گھلتا ہے
میں سوچتا ہوں ان رستوں میں
ہم کتنی دیر کے بعد ملے
جب کتنے موسم بیت گئے
اس کرب کٹھور مسافت میں
دل صدیوں چکنا چور ہوا
اس ہجر کے تپتے صحرا میں
کیا غزلیں تھیں جو راکھ ہوئیں
کیا نیندیں تھیں جو خاک ہوئیں
ہم اتنی دیر کے بعد ملے
کیوں اتنی دیر کے بعد ملے