PDA

View Full Version : سمجھداری کی باتیں/ دانائی کے پھول



cool
07-04-2010, 10:00 PM
سمجھداری کی باتیں/ دانائی کے پھول



ہر حال میں راضي برضا ہوتو مزہ ديکھ

دنيا ہي ميں رہتے ہوئے جنت کا مزہ ديکھ



پیارے پیارے ننھے منے بچو!




کیسے ہو آپ سب ؟

ہماری زندگی میں بہت سے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے،

کچھ لوگ خطوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جنہیں بار بار پڑھ کر بھی دل نہیں بھرتا ۔

کچھ لوگ نگاہ کی طرح ہوتے ہیں کہ جو اگر ساتھ ہوں تو اندھیروں میں بھی منزلیں مل جاتی ہیں۔

کچھ لوگ گھر کی طرح ہوتے ہیں ۔ وہ چاہے کتنا بھی دور کیوں نہ ہوں ، دل ان کی روح میں سمٹ جانے کو بے چین رہتا ہے ۔اور رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگتے ہیں .

کچھ لوگ مشعل کی طرح ہوتے ہیں- جن کی سمجھداری اور عقلمندی کی باتیں اور نصیحتیں ہماری زندگی کو روشن خیال ' اور کامیاب بنا نے میں ہماری مدد گار بنتی

ہیں ..اور ہم میں سے ہر کوئی کسی کو کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا سکتا اور سمجھا سکتا ہے' کچھ لوگوں سے ہمیں اچھا سیکھنے کو ملتا ہے کچھ سے برا ( جو کہ اک تجربہ ہوتا ہے )پر ہمیشہ انتخاب انسان کی اپنی ذات کا ہوتا ہے کہ وہ کیا سیکھنا اور سمجھنا چاہتا ہے اچھا یا برا ..

آج ہم اپنی اس پوسٹ میں کچھ سمجھ داری کی باتیں شئیر کر رہے ہیں ..جن کو دانائی کے پھول کہنا بلکل بجا ہو گا*


٭ خوش مزاج انسان ٹوٹے ہوۓ دل کی دوا ہے ۔ دوسروں کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے سے بڑی بڑی محبتیں جنم لیتی ہیں۔ دوسروں کے آرام میں*اپنا سکون تلاش کرنا بھی بڑائی ہے...آپ کا ایک لفط زخم بھی لگا سکتا ہے اور مرہم بھی بن سکتا ہے ، اختیار آپ کے پاس ہے ۔ ایسی خوشی سے ڈرو جو دوسروں کو دکھ دے کر حاصل کی گئ ہو 'برے انسانوں سے نہیں بلکہ ان کی برائی سے نفرت کرو ۔ معاشرہ پر تمہارا اس سے بڑا احسان اور کوئی نہیں ہوگا کہ تم خود سنور جاؤ ۔ نصیحت خواہ دیوار پر لکھی ہو اسے کان میں ڈالو۔


۔۔ نعمت کا نا مناسب استعمال خدا کی ناشکری ہے ۔کارخانہ قدرت پر غور کرنا بھی عبادت ہے

٭ مشکلات کو دور کرنے کی خواہش کو دبانے اور تکالیف برداشت کرنے سے انسان کا کردار مضبوط اور پاکیزہ ہوتا ہے ۔

٭ نیکی کرنے کا موقع ایک بار اور برائی کرنے کا ہزار بار ملتا ہے ۔

٭ تلافی کرنے میں یہ کبھی خیال مت کرو کہ دیر ہو گئي ۔

٭ دو دفعہ پوچھنا ،ایک دفعہ غلط راہ اختیار کرنے سے بہتر ہے ۔

٭ دنیا میں کامیابی چاہتے ہو تو ماں باپ کی خدمت کرو ۔

٭ سستی سے بڑھ کر انسان کا کوئی دشمن نہیں ۔

٭ زندگی میں ذہنی صلاحیت آرام کرنے سے نہیں کام کرنے سے بڑھتی ہے ۔

٭ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

٭ راستے میں پڑا ہوا پتھر ہٹا دینا اچھا عمل ہے ۔

٭ جن لوگوں نے دنیا کی خوبصورتی اور حسن کو چھوڑ کر اللہ تعالی کی خوبصورتی اور حسن کو اپنا لیا ، بے شک وہی لوگ جنت کے مستحق ہوں گے ۔

٭ دنیا کی خوبصورتی عارضی ہے اور آخرت کی خوبصورتی ہمیشہ کے لیے ہے ۔


* کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اختیار نہ کرو۔ ممکن ہے اس سے خدا روٹھ جائے۔

* کم کھانا صحت، کم بولنا حکمت، اور کم سونا عبادت میں شامل ہے۔

* علم ایک ایسا پودا ہے جسے دل و دماغ کی سرزمین میں لگانے سے عقل کے پھل اگتے ہیں۔

*سنجیدہ بنو لیکن تلخ مزاج نہیں ۔ بہادر بنو مگر جلد باز نہیں ۔ حلیم بنو مگر غلامی کی حد تک نہ پہنچو ۔

*پرانا تجربہ نئی تعمیر کی بنیاد ہوتا ہے ۔


*صابر بنو مگر کمینہ پن اختیار نہ کرو ۔ مستقبل مزاج بنو لیکن ضدی نہ بنو ۔

*ٹھوکر وہی کھاتا ہے جو راستے کے پتھر نہیں ہٹاتا ۔

*ہر عمل کے اندر اس کا انجام یوں چھپا ہوتا ہے جیسے کسی بیچ میں کوئی درخت ۔

*ناکامی کے اسباب ہمیشہ آدمی کے اندر ہوتے ہیں مگر وہ انہیں دوسروں میں تلاش کرتا ہے ۔

*انسان بہت کچھ تقدیر پر جبکہ تقدیر بہت کچھ انسان پر چھوڑتی ہے ۔




"کامیاب زندگی کے لیۓ"

"سنیے لیکن متانت و سنجیدگی کے ساتھ

سوچیے ۔۔۔۔۔ لیکن چذبہ تعمیر کے ساتھ

عطا کیجۓ ۔۔۔ لیکن فیاضی کے ساتھ

زندہ رہیے ۔۔۔ لیکن حوصلے کے ساتھ

سفر کیجۓ ۔۔ لیکن نیک ارادے کے ساتھ

مقابلہ کیجۓ ۔۔۔ لیکن احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ

تمنا کیجۓ ۔۔۔ لیکن استحقاق (حق) کے ساتھ

سوئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہوشیاری کے ساتھ

بات کیجۓ ۔۔۔۔۔۔ لیکن نرم لہجے اور وقار کے ساتھ

برداشت کیجۓ ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن صبر و تحمل کے ساتھ "


٭ کسی کو الزام دیتے وقت اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے ۔

٭ حقیقی کامیابی ، مسلسل محنت کا نام ہے ۔ جواں مردی یہ ہے کہ اپنا بوجھ دوسروں پر نہ ڈالو ۔

٭ اپنی مدد آپ ، کامیابی کا سب سے بڑا اصول ہے ۔

٭ اللہ تعالی کے بعد والدین کی اطاعت بہت ضروری ہے ۔

٭ اس دن پر آنسو بہا جو تیری عمر میں کم ہو گیا اور اس میں نیکی نہیں کی تھی ۔

٭ زندگی کو ہمیشہ مسکرا کر گزارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ یہ کتنی باقی ہے ۔

٭ سورج کی طرح اپنی شخصیت بناؤ جو ہمیشہ کرنیں بکھیرتا ہے ۔

٭ اگر کوئی تمہاری راہ میں کانٹے بکھیرے تو تم اس کی راہ میں کانٹے نہ بکھیرو ۔ ورنہ دنیا کانٹوں سے بھر جاۓ گی ۔

٭ معاف کر دینے سے آدمی کی روح پاک ہو جاتی ہے ۔

٭ غصے کا بہترین علاج خاموشی ہے ۔

٭ انسان کے لیۓ سب سے مشکل کام خدا کی پہچان ہے ۔

٭ شکر سے نعمتوں کو دوام حاصل ہوتا ہے اور کفر ان کو کھینچ لیتا ہے ۔

٭ اپنے رازوں کو پوشیدہ رکھنے والے گویا اپنی سلامتی کو اپنے قبضے میں رکھتے ہیں ۔

٭ جھوٹوں کے گھروں سے برکتیں اٹھا لی جاتی ہیں ۔

٭ توبہ کی امید پر گناہ کرنے والا بدترین ہے ۔

٭ حسد کو اپنے قریب بھی نہ آنے دو ۔

٭ سخاوت کرنے سے ہی نعمت ملتی ہے ۔

٭ خود پسندی اور تکبر بڑے گناہ ہیں ۔

٭ مومن کی نشانی یہ ہے کہ مصیبت کو ہنس کر قبول کرتا ہے ۔

٭ بدگمانی کشتی کے اندر قطرہ قطرہ رستا ہوا پانی ہے جو آخر کار کشتی کو لے ڈوبتا ہے ۔

٭ آسمان سے نوٹ برسنے کی خواہش کرنے کی بجاۓ یہ خواہش کرو کہ آسمان سے خدا کی رحمت برسے ۔ ۔

٭ کتنے لوگ ہیں جو سمندر کی طرح بولتے ہیں مگر ان کی سوچ گندے جوہڑوں کی طرح محدود ہوتی ہے ۔ اپنی سوچ کو پانی کی طرح صاف شفاف رکھو .

٭ مسکراہٹ سے چہرے پر مزید نکھار پیدا ہوتا ہے ۔

٭ اگر کسی نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہو تو اس کا بدلہ دینے میں دیر مت کرو اور اگر کسی نے برائی کی ہو تو اس کا بدلہ لینے سے پرہیز کرو ۔

٭ علم بغیر عمل " وبال " ہے اور عمل بغیر علم " گمراہی " ہے ۔

٭پاک صاف دل تو اللہ کا گھر ہے



٭ ہر روز اپنا منہ آئینے میں دیکھا کرو۔ اگر بری صورت ہے تو برا کام نہ کرو ۔ تاکہ دو برائیاں جمع نہ ہوں۔ اگر اچھی صورت ہے تو اس کو برے کام کرکے خراب نہ کرو۔

٭ زیادہ تر عالموں کی محفلوں میں بیٹھا کرو اور دانائوں کی باتوں کو غور سے سنا کرو۔

٭ ہمیشہ سچ کو اپنا پیشہ بنا لو ،جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کا چہرہ بے رونق ہو جاتا ہے ۔۔

٭ والدین کی ڈانٹ ڈپٹ اولاد کیلئے اس طرح ہے جس طرح کھیتوں کیلئے پانی۔۔



٭اگر کوئی شخص تمہارے سامنے کسی کی شکایت کرے کہ فلاں نے میری آنکھ اندھی کر دی ہے تو جب تک تم دوسرے کی بات نہ سن لو اس وقت تک یقین نہ کرنا-

٭ دنیا میں سب سے اچھا سوال یہ ہے کہ میں اس میں کیا نیکی کرسکتا ہوں۔نیکی جو بھی کرسکتے ہو کرو۔ جن ذرائع سے بھی کرسکتے ہو کرو ۔ جس طرح بھی کرسکتے ہو کرو ۔جہاں بھی کرسکتے ہو کرو ۔جب بھی کرسکتے ہو کرو ۔ جس کے ساتھ بھی کرسکتے ہو کرو ۔ جب تک کر سکتے ہو کرو۔'اپنی نیکیوں کے لئے پوشیدہ جگہ بناؤ جیسے برائیوں کے لئے بناتے ہو

٭ جو کام برائے خدا کیا جائے اس میں بندوں کا خوف نہ کر ۔

٭ بچپن میں شرم و حیا۔ جوانی میں اعتدال اور پیری میں کفایت شعاری اور عاقبت اندیشی ضروری ہے۔

٭کسی کے عیب مت تلاش کر، تاکہ دوسرے تیرے عیبوں کی جستجو نہ کرے۔

٭ہر ایک سے بدی کرنا اور خود آرام میں رہنے کی توقع کرنا سخت غلطی ہے ۔

٭ نیک کام کرنے سے دل کو دومرتبہ راحت ملتی ہے اول جب وہ کام کیا جاتا ہے دوئم جب اس کا اجر ملتا ہے

٭ نیک دل لوگ گائے کی مانند ہیں جو گھاس کھا کر دودھ دیتی ہے اور گنہگار سانپ کی مانند ہیں جو دودھ پلانے پر بھی ڈنگ مارتا ہے ۔

٭ نیک کام کرتے وقت مذہب و ملت کا خیال مت کرو۔

٭ بہترین عبادت کردار کی صحت اور خیالات کی پاکیزگی ہے ۔

٭ انسان بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں جوان ہو جاتی ہیں حرص اور دولت کی محبت۔

٭ ہر ایک انسان کی روشنی اس کی نگاہ میں ٹھیک ہے مگر اللہ تعالیٰ دلوں کو تولتا ہے ۔

0092directory
11-21-2011, 03:41 AM
216