Raniya
08-12-2010, 11:51 AM
فرصت کہاں خطوط پڑھوں آج پیار سے
اب خیریت بتایا کرو یار تار سے
دلی کے تاج وتخت کا اک دعویدار تو
داخل تھاا سپتالوں میں پانی کی مار سے
نیتا کی شان دیکھ اسے ووٹ یوں ملے
مُردے نکل کے آگئے ہیں اپنے مزار سے
ریلی نکالنے کا ارادہ جہاں کیا
مجھ کو زکام ہوگیا ہلکی پھوار سے
میں ریل روکنے کے لیے تیرے ساتھ ہوں
فرصت اگر مجھے ملی سردی بخار سے
میں ڈر رہا ہوں مجھ کو بھی غالب کہیں گے لوگ
یہ گھر چلا کرے گا ہمیشہ اُدھار سے
اب خیریت بتایا کرو یار تار سے
دلی کے تاج وتخت کا اک دعویدار تو
داخل تھاا سپتالوں میں پانی کی مار سے
نیتا کی شان دیکھ اسے ووٹ یوں ملے
مُردے نکل کے آگئے ہیں اپنے مزار سے
ریلی نکالنے کا ارادہ جہاں کیا
مجھ کو زکام ہوگیا ہلکی پھوار سے
میں ریل روکنے کے لیے تیرے ساتھ ہوں
فرصت اگر مجھے ملی سردی بخار سے
میں ڈر رہا ہوں مجھ کو بھی غالب کہیں گے لوگ
یہ گھر چلا کرے گا ہمیشہ اُدھار سے